صدرمملکت نے کہا کہ جابرانہ سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی برادری پر ایک خاص گروہ کی خواہشات ونظریات کومسلط کئےجانےنیز عالمگیریت کے نام پر دنیا پر آمریت وشہنشاہیت قائم کرنے کا زمانہ اب ختم ہوچکا ہے۔صدرمملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے دنیا کو درپیش چیلنجوں کے بارے ميں جنرل اسمبلی کے چارسال قبل کےاجلاس میں اپنے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دوگروہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہيں ، ایک وہ گروہ ہے جو اپنے مادی مفادات کی ترجیح کی بنیاد پر عیاری و مکاری، غاصبانہ قبضے، جارحیت، انسانوں کی توہین، غربت و محرومی اور ظلم و عدم مساوات کو رائج کرکے دنیا اور قوموں پر اپنا تسلط قائم اوراپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان ، انبیاء الہی کی تعلیمات کی پیروی، انسانی کرامت و فضیلت کے احترام اور انسانیت سے محبت کے ساتھ سب کیلئے امن و آزادی اور انصاف و معنویت پر مبنی پائدار امن و فلاح سے سرشار دنیا بنانے کی کوشش کررہا ہے ۔ صدرمملکت نے کہا کہ اب وہ دور ختم ہوچکا ہے کہ ایک گروہ کے لوگ جمہوریت وآزادی کی تعریف کریں اور خود کو ہی اس کا معیار بنالیں اور وہ خود سب سے پہلے اس کی خلاف ورزی کرنے والے ہوں اور حقیقی جمہوری حکومتوں کی مخالفت بھی کرتے ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پرپھیلتی ہوئی حریت پسندی اور اقوام عالم کی بیداری اب اس غلط راستے پر چلنے کی اجازت نہيں دے گی اور اسی وجہ سے امریکہ سمیت اکثر قومیں وسیع و عریض اور حقیقی تبدیلی کی توقع رکھتی ہیں اور تبدیلی کے نعرے کا خیرمقدم کرتی ہيں۔ صدر مملکت نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا "کون سوچ سکتا ہے کہ فلسطین میں انسانیت سوز پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ممکن ہوگا؟" اور وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ ممکن نہيں کہ ایک قوم کو تمام انسانی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہتھیاروں اور پروپیگنڈوں کے زور پر ساٹھ سال سے زیاد ہ عرصے سے ان کے شہروں سے باہر نکال دیا جائے ، اور ان پرانسانیت سوز طریقوں حتی ممنوعہ ہتھیاروں سے حملہ کیاجائے اور ان سے جائز دفاع کا حق بھی چھین لیاجائے اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کی حیرت زدہ نگاہوں کے سامنے جارح اور غاصب قوتوں کو امن پسند، اورمظلوم قوم کو دہشت گرد کہا جائے ۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ فلسطین کے مظلوم عوام کی صورتحال کے بارے میں اب یہ بات قابل قبول نہيں کہ ایک اقلیت کو غیرانسانی طریقے سے تیار کئے گئے پیجیدہ منصوبے کے ذریعے دنیا کے اہم حصے کی ثقافت سیاست اور اقتصاد پر مسلط کردیا جائے ۔ انہوں نے عراق اور افغانستان کی صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی قابل قبول نہيں کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھا ہوا ایک گروہ مشرق وسطی کے مسائل میں فوجی مداخلت کرے اور اپنے ساتھ قتل عام، جنگ، دہشتگردی، جارحیت اور دھمکی کی سوغات لائے لیکن اپنی قومی سلامتی اور مستقبل کی فکرمند علاقے کی قوموں کی صدائے احتجاج اور ظالم طاقتوں کے اقدامات و جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والوں اور اپنے مظلوم ہم وطنوں کی حمایت کرنے والوں کو امن دشمن قراردیا جائے اور دوسروں کے امورمیں مداخلت کا نام دیاجائے۔صدرجناب احمدی نژاد نے کہا کہ یہ بھی قابل قبول نہيں کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جسے تمام قوموں اورحکومتوں کا نمائندہ ہونا چاہئے اور اس میں ہونے والے فیصلوں کو سب سے زیادہ جمہوری اور ڈیموکریٹک ہوناچاہئے وہ چند حکومتوں اور ان کے مفادات و مطالبات کی پابند ہوکر رہ جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ مارکسزم تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور توسیع پسندانہ سرمایہ داری بھی تاریخ کے کوڑے دان میں پہنچ جائے گی کیونکہ وعدہ الہی کے مطابق یہ باطل قانون اور نظریہ ہے اور صرف وہی چيز باقی رہے گي جو انسانیت اورانسانی معاشرے کے لئے مفید ہو۔ صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کی اس تقریر کو جہاں بڑی تعداد میں دنیا بھر کی عوام نے براہ راست ٹی وی پر دیکھا اور سنا وہاں دنیا کے پرنٹ میڈیا نے بھی اپنی اپنی شہ سرخیوں کے ساتھ ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر کو اپنے اپنے اخبارات میں نمایاں طریقے سے شائع کیا ہے ۔امریکی خبررساں ادارے سی این این نے اپنی عربی زبان کی ویب سائیٹ میں غاصب صہیونی ریاست کے بارے میں ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر کے اقتباسات کو نمایاں کرکے پیش کیا ہے ۔سی این این کی سائيٹ میں آيا ہے کہ احمدی نژاد نے اسرائیل پر حملہ کیا ہے مغرب پرتنقید کی ہے اورتبدیلی کا مطالبہ کیا ہے ۔ سی این این اس سرخی کے ذیل میں لکھتا ہے: ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مغرب اور امریکہ سے کہا ہے کہ وہ عراق ،افغانستان ، مشرق وسطی ، لاطینی امریکہ اور ایشیا میں مداخلت ختم کردیں اور دنیا میں انصاف، اخلاق اور انسانی بنیادوں پر اقتصادی اصلاحات عمل میں لائی جائیں ۔رائٹرز نے بھی ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر میں سے صرف صہیونی مخالف اقتباس کونمایاں کرکے شائع کیا ہے ۔ رائٹرز نے لکھا ہے کہ ایرانی صدر نے اپنے ایٹمی پروگرام کا ذکر کئے بغیر کہا ہے کہ تہران اپنے جائز اور قانونی حق کی پوری طاقت سے حمایت کرے گا اور جو بھی ایران کی طرف صداقت سے ہاتھ بڑھائے گا ایران بھی اس کو خوش آمدید کہے گا ۔ الجزيرہ ٹی وی کی ویب سائٹ نے بھی ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر کے متن پر "عالمی سیاست تبدیل ہونی چاہئے" کی سرخی جمائي ہے ۔ عبری زبان میں غاصب صہیونی ریاست کے اخبار " معاریو" نے بھی اسرائیل کے بارے میں ڈاکٹر احمدی نژاد کے بیان کو زيادہ نمایاں کرکے شائع کیا ہے ۔ معاریو لکھتا ہے: احمدی نژاد نے اسرائيل پر شدید حملہ کیا ہے اور اس حملے کے ردعمل میں مغربی ممالک اجلاس سے باہر چلے گئے ۔ یہ اخبار مزيد لکھتا ہے جب ایرانی صدر نے صہیونیت مخالف گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل پر تمام دنیا کی اقتصاد اور سیاست پر مسلط ہونے کا الزام لگایا تو اس وقت بہت سے مغربی ممالک کمرہ اجلاس سے باہر آگئے ۔صہیونی اخبار ھاآرتص نے بھی دیگر مغربی اور صہیونی اخبارات و خبررساں ایجنسیوں کی طرح ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر کے صرف ان ہی اقتباسات کو نمایاں کیا ہے جو صہیونیت مخالف تھے ۔ھاآرتص نے لکھا ہے کہ ایرانی صدر نے اسرائيل پر الزام لگایا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ہر طرح کے ہتھیار حتی ممنوعہ اور غیر روایتی ہتھیار استعمال کررہا ہے ۔ صہیونی اخبار نے احمدی نژاد کے اس جملے کو نمایاں طریقے سے شائع کیا ہے کہ اسرائيل مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اس لئے عام تباہی پھیلانے والے اور غیر روایتی ہتھیار استعمال کررہا ہے تا کہ فلسطینیوں کی خود اعتمادی ختم ہوجائے اور وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مقابلے سے ہاتھ اٹھالیں ۔لبنان کے ٹی وی چینل المنار نے تقریر کا مکمل متن دینے کے ساتھ ساتھ ایران کے اندرونی حالات کے بارے میں ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کی تقریر کے الفاظ کو بھی نمایاں انداز سے پیش کیا ہے ۔المنار نے ڈاکٹر احمدی نژاد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ایران کے حالیہ انتخابات عظیم الشان اور مکمل جمہوری تھے اور ان انتخابات کے بعد ایرانی قوم ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گي۔ مختصر یہ کہ دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے انداز سے ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کی تقریر کے اقتباسات اور ان پر تبصرے شائع کئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے جس انداز سے عالمی مسائل بالخصوص مشرق وسطی اور فلسطین کے مسئلے کو روشن و واضح کیا ہے کسی دوسرے اسلامی یا علاقائی ملک کے سربراہ یا نمائندے نے اس طریقے سے بیان نہیں کیا ہے ۔اسلامی جمہوریۂ ایران کا عالمی اور مشرق وسطی کے بارے میں ہمیشہ سے یہ ٹھوس اور جاندار موقف رہا ہے کہ دنیا پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے عالمی اداروں کو اپنے چارٹر اور رکن ممالک کی آراء کی روشنی میں فیصلے کرنا چاہئے یہی وجہ ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایک بار پھر اپنی گذشتہ رات کی تقریر میں یہ کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو تمام قوموں اور حکومتوں کا نمائندہ ہونا چاہئے اور اس میں ہونے والے فیصلوں کو سب سے زيادہ جمہوری اور ڈیموکریٹک ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اس خطاب میں ایک بار پھر اہل حق کو اس بات کی نوید دی ہے کہ مارکسزم کی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہونے والا ہے کیونکہ الہی وعدے کے مطابق وہی چیز باقی رہے گی جو انسانیت اور انسانی معاشرے کے لئے مفید ہو ۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 167906
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا ممکن نہيں ہے۔